یہ السر کی علامات معدے کے تیزاب کے واپس آنے کی بیماری اور السر دونوں میں مشترک ہو سکتی ہیں، لیکن السر کا ٹیسٹ ہی صحیح تشخیص دے سکتا ہے۔
“میں مسالہ دار کھانا نہیں کھا سکتا، مجھے پیپٹک السر کا درد ہے۔” آپ نے اس بیماری کے بارے میں ضرور سنا ہوگا جو پاکستان میں بہت سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن اکثر غلط سمجھی جاتی ہے – پیپٹک السر یا معدے کا السر۔ اگر آپ نے کبھی اپنے معدے میں پیٹ میں جلن محسوس کی ہے یا کسی کو یہ کہتے سنا ہے کہ “مجھے لگتا ہے کہ مجھے السر ہے”، تو آپ صحیح جگہ پر ہیں! یہ گائیڈ آسان اردو میں لکھی گئی ہے تاکہ آپ کو سمجھ آئے کہ پیپٹک السر بیماری کیا ہے، السر کیوں ہوتا ہے، اور پیپٹک السر علاج کیسے کیا جا سکتا ہے۔
پیپٹک السر بیماری یا پیٹ کا زخم اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے معدے یا چھوٹی آنت کے اوپری حصے کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ عام طور پر، آپ کا معدہ کھانا ہضم کرنے اور نقصان دہ بیکٹیریا کو مارنے کے لیے ہائیڈروکلورک ایسڈ بناتا ہے، جو قدرت کا ایک فطری تحفہ ہے۔ لیکن جب معدے کی تیزابیت بہت زیادہ ہو جائے یا معدے کی پرت کمزور ہو جائے، تو یہ زخم یا السر پیدا کر سکتا ہے۔ یہ السر خون بہہ سکتے ہیں یا سیاہ دھبے پیدا کر سکتے ہیں، اسی لیے توجہ دینا ضروری ہے۔
پاکستان میں، آپ لوگوں کو کسی بھی معدے کا درد کے لیے “السر” کہتے سنیں گے، لیکن یہ ایک مخصوص حالت ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جانے والے ہر تیسرے یا چوتھے مریض کہہ سکتے ہیں، “ڈاکٹر صاحب، مجھے السر ہے”، لیکن اس کے لیے مناسب معائنہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فلیکس ایبل اینڈوسکوپی کا طریقہ کار جس میں ایک چھوٹا کیمرہ آپ کے معدے کے اندر دیکھتا ہے، ڈاکٹروں کو ان زخموں کو دیکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ منہ کے السر کی دوا سے مختلف ہے، جو آپ کے منہ میں زخموں کا علاج کرتی ہے، نہ کہ آپ کے معدے میں!
پیپٹک السر کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، پٹھوں کے درد کی دوا اور السر کا گہرا تعلق ہے – بروفین، سالویکس، یا سٹیرائیڈز جیسی درد کش ادویات لینا معدے کی پرت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ اکثر جوڑوں کے درد یا سوزش کے لیے دی جاتی ہیں، لیکن ان کے ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔ دوسری، ایچ پائلوری انفیکشن – یہ ایک عام بیکٹیریا ہے جو معدے کی پرت کو متاثر کرتا ہے، زیادہ تیزاب بناتا ہے اور اسے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ انفیکشن بھیڑ بھاڑ والی جگہوں میں آسانی سے پھیلتا ہے، جو ہمارے مصروف شہروں میں عام ہے۔
اگر آپ کو فرائز اور برگر پسند ہیں، تو محتاط رہیں! بہت زیادہ تیل والا یا مسالہ دار کھانا کھانے سے بدہضمی خراب ہو سکتی ہے اور آپ کے معدے میں پیٹ میں جلن ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ بنیادی وجہ نہیں ہے۔
پیٹ کے السر کی علامات میں شامل ہیں:
خوش خبری! السر کا علاج پاکستان میں آسانی سے دستیاب ہے، اور آپ اسے روکنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ آئیے بات کرتے ہیں کہ اپنے معدے کو خوش اور صحت مند کیسے رکھا جائے۔
سب سے پہلے، اگر آپ پٹھوں کے درد کی دوا لے رہے ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے معدے کی حفاظت کی دوا کے لیے پوچھیں۔ ان کو پروٹون پمپ انحیبیٹرز یا ایچ ٹو بلاکرز کہا جاتا ہے، جو معدے کی تیزابیت کو کم کرتے ہیں اور آپ کے معدے کی پرت کی حفاظت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ اسپرین یا پلیوکس جیسی دوائیں (دل کے مسائل کے لیے استعمال ہونے والی) لے رہے ہیں، تو آپ کا ڈاکٹر ایک اینٹی ایسڈ شامل کر سکتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں بہت سے لوگ یہ ادویات بغیر حفاظت کے لیتے ہیں، جس سے پیپٹک السر ہو جاتا ہے۔
دوسرا، اگر ایچ پائلوری انفیکشن مجرم ہے، تو السر کا ٹیسٹ اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔ بہترین ٹیسٹ سانس ٹیسٹ ایچ پائلوری یا اسٹول ٹیسٹ ایچ پائلوری ہے – خون کے ٹیسٹ اتنے مددگار نہیں ہیں۔ اگر یہ مثبت ہے، تو ڈاکٹر بیکٹیریا کو مارنے کے لیے اینٹی بائیوٹکس دیں گے، تیزاب کم کرنے والی دوا کے ساتھ۔ حال ہی میں ایک کیس میں پیپٹک السر سے شدید خون بہنے والے مریض کا فلیکس ایبل اینڈوسکوپی کے طریقہ کار سے کامیابی سے علاج کیا گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد کارروائی کتنی اہم ہے!
خوراک ہاضمے کی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے فائبر کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہاضمے کی صحت میں فائبر کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور آنتوں کی کارکردگی کو متوازن رکھتا ہے، لہٰذا اپنی روزمرہ غذا میں پھل، سبزیاں اور اناج شامل کریں۔ کھانا چھوڑنے یا زیادہ تلی ہوئی اور فاسٹ فوڈ اشیاء جیسے فرائز اور برگر کھانے سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ معدے کے تیزاب کے واپس آنے کی بیماری اور السر دونوں کو بڑھا سکتے ہیں اور پیٹ کے السر کی علامات کو شدید کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ہاضمے کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
کبھی کبھی، ڈاکٹر فائبرواسکین ٹیسٹ یا کولونوسکوپی تجویز کر سکتے ہیں تاکہ آپ کی مجموعی آنتوں کی صحت کو چیک کیا جا سکے، خاص طور پر اگر السر کی علامات برقرار رہیں۔ الٹراساؤنڈ اینڈوسکوپی اور ای آر سی پی جیسے جدید طریقے بھی دستیاب ہیں جو پیچیدہ کیسز میں مدد کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ محفوظ ہیں اور مسائل کو جلد پکڑ سکتے ہیں۔
اگر مریض کو کھانا نگلنے میں دشواری ہو یا شدید غذائی کمی ہو، تو پیگ ٹیوب پلیسمنٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو براہ راست معدے میں غذائیت فراہم کرتی ہے۔
یہ جاننا دلچسپ ہے کہ DGBI (Disorders of Gut-Brain Interaction) یعنی آنتوں اور دماغ کے تعامل کی خرابیاں، پیپٹک السر بیماری کی علامات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تناؤ اور ذہنی دباؤ آپ کے معدے کا درد اور پیٹ میں جلن پر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی لیے ذہنی سکون برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔
معدے کا السر کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل نہیں ہے۔ صحیح دیکھ بھال کے ساتھ، آپ بہتر محسوس کر سکتے ہیں اور شدید خون بہنے جیسے سنگین مسائل سے بچ سکتے ہیں، جو نظر انداز کیے جانے پر جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ یہاں کچھ عملی تجاویز ہیں:
اپنے جسم کی سنیں: اگر آپ کو ایپی گیسٹرک درد (سینے کے بالکل نیچے معدے کا درد) محسوس ہو، تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ ڈاکٹر سے ملیں اور اپنے ہیموگلوبن کی سطح کو چیک کرنے کے لیے خون کا ٹیسٹ کروائیں۔
سوالات پوچھیں: جب آپ کا ڈاکٹر جوڑوں یا دل کے مسائل کے لیے پٹھوں کے درد کی دوا تجویز کرے، تو پوچھیں، “کیا میرے معدے کی حفاظت کے لیے کچھ ہے؟” یہ چھوٹا سا قدم آپ کو پیٹ کا زخم سے بچا سکتا ہے۔
صفائی رکھیں: ایچ پائلوری انفیکشن ناصاف پانی یا کھانے سے پھیلتا ہے۔ اپنے ہاتھ دھوئیں اور تازہ، صاف کھانا کھائیں تاکہ آپ کا خطرہ کم ہو۔ یہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس: علامات اور علاج جیسی دوسری بیماریوں سے بچنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
علاج کی پیروی کریں: اگر آپ پیپٹک السر علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس یا معدے کی حفاظت کی دوا لے رہے ہیں، تو انہیں تجویز کردہ طریقے سے لیں۔ خوراک چھوڑنے سے پیٹ کا زخم واپس آ سکتا ہے۔
پاکستان میں، جہاں بھیڑ بھاڑ والی رہائش عام ہے، ایچ پائلوری انفیکشن گیسٹرو اینٹرولوجسٹ اور دانتوں کے ڈاکٹروں جیسے پیشوں میں زیادہ کثرت سے پایا جاتا ہے۔ لہذا، اگر آپ ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں یا مصروف علاقوں میں رہتے ہیں، تو اضافی محتاط رہیں۔ ماہر کے ساتھ باقاعدہ معائنہ بڑا فرق لا سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ معدے کی صحت کا خیال رکھنے سے آپ کولوریکٹل کینسر جیسی خطرناک بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔ ہاضمے کی صحت میں فائبر کی اہمیت اس لیے ہے کہ فائبر ہاضمے کی صحت بہتر بناتا ہے اور آنتوں کو صحت مند رکھتا ہے۔ فائبر والی غذا کا باقاعدگی سے استعمال آپ کے نظام ہاضمہ کو مضبوط بناتا ہے۔
اب جب آپ پیپٹک السر، معدے کا السر، السر کی علامات اور پیپٹک السر علاج کیسے کرنا ہے سمجھ گئے ہیں، تو اب وقت ہے اپنی صحت کی ذمہ داری لینے کا۔ غلط فہمیوں یا خوف کو آپ کو مدد حاصل کرنے سے نہ روکنے دیں۔ اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو پیٹ کے السر کی علامات، پیٹ میں جلن، یا معدے کا درد کا سامنا ہے، تو انتظار نہ کریں – آج ہی پروفیسر گل کے ساتھ مشاورت بک کریں۔
وہ فلیکس ایبل اینڈوسکوپی، الٹراساؤنڈ اینڈوسکوپی، ای آر سی پی، اور پیگ ٹیوب پلیسمنٹ جیسے جدید طریقہ کار میں ماہر ہیں۔ ان کے پاس السر کا ٹیسٹ، سانس ٹیسٹ ایچ پائلوری، اسٹول ٹیسٹ ایچ پائلوری، اور فائبرواسکین ٹیسٹ کی سہولیات دستیاب ہیں۔
السر کا علاج پاکستان میں ممکن ہے اور پیپٹک السر بیماری صحیح علم اور علاج کے ساتھ قابل انتظام ہے۔ پیٹ کا زخم کا مطلب اردو میں (“معدے کا السر”) سمجھنا یا منہ کے السر کے لیے بہترین دوا تلاش کرنا (معدے کے السر سے مختلف!)، ہم نے یہ سب کچھ احاطہ کیا ہے۔ باخبر رہیں، معدے کی حفاظت کی دوا استعمال کریں، فائبر والی غذا کھائیں، اور صحت مند زندگی گزاریں۔
پیپٹک السر کا درد عموماً اوپر والے پیٹ یا معدے کے درمیان محسوس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ درد سینے یا کمر تک بھی پھیل سکتا ہے اور کھانے کے بعد زیادہ ہو جاتا ہے۔
اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ شدید حالت میں خون بہنا، معدے میں سوراخ ہونا یا انفیکشن جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ہلکی علامات کبھی کبھار وقتی طور پر کم ہو سکتی ہیں، لیکن مکمل علاج کے بغیر السر عام طور پر ٹھیک نہیں ہوتا۔ صحیح تشخیص اور دوا ضروری ہوتی ہے۔
زیادہ تر کیسز میں یہ بیکٹیریا انفیکشن، زیادہ تیزاب بننا، درد کی ادویات کا زیادہ استعمال یا غیر صحت بخش غذا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عام طور پر اندرونی معائنہ، خون کے ٹیسٹ یا سانس کے ٹیسٹ کے ذریعے بیماری کی تصدیق کرتے ہیں تاکہ درست علاج شروع کیا جا سکے۔
ایسے مریض کو ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کھانی چاہیے جیسے دلیہ، ابلی سبزیاں، کیلا اور دہی، جبکہ تلی ہوئی اور مصالحے دار چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
پیپٹک السر سے بچاؤ کے لیے متوازن غذا کھائیں، بہت زیادہ مصالحہ دار اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں، درد کی ادویات بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہ کریں، تمباکو نوشی سے دور رہیں اور ذہنی دباؤ کم کریں۔ باقاعدہ چیک اپ بھی بیماری سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
پیپٹک السر کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مریض کی علامات جانچنے کے بعد مختلف ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں، جیسے معدے کا اندرونی معائنہ، خون یا سانس کا ٹیسٹ، اور بیکٹیریا کی موجودگی کی جانچ۔ ان ٹیسٹوں سے بیماری کی اصل وجہ معلوم ہوتی ہے اور درست علاج شروع کیا جاتا ہے۔
ہلکی غذا جیسے دلیہ، کیلا، دہی، ابلی سبزیاں اور سادہ چاول معدے کو آرام دیتے ہیں۔ ادرک، شہد اور نیم گرم پانی بھی فائدہ دے سکتے ہیں۔ تاہم گھریلو ٹوٹکوں پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے؛ اگر درد برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
یہ ایک بیکٹیریا ہوتا ہے جو زیادہ تر السر کی وجہ بنتا ہے۔ اس کی تشخیص سانس، خون، پاخانے یا اندرونی معائنے کے ذریعے کی جاتی ہے۔ علاج میں عموماً اینٹی بایوٹک ادویات اور تیزاب کم کرنے والی دوا دی جاتی ہے، جو ڈاکٹر کے مشورے سے مکمل کورس میں لینی ضروری ہوتی ہیں۔
اگر پیپٹک السر کا علاج نہ کیا جائے تو معدے سے خون بہنا، شدید درد، معدے میں سوراخ یا ہاضمے کی شدید خرابی جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی علاج ضروری ہے۔